قسمت میں لکھ دیا ہے جو دل کی صدا بھی ہو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاقسمت میں لکھ دیا ہے جو دل کی صدا بھی ہو
میرے وہ قول و فعل سے کچھ آشنا بھی ہو
نظروں کے آئینے میں کوئی دلربا بھی ہو
اتنے ہجوم میں کوئی چہرہ نیا بھی ہو
ان آندھیوں نے شور مچایا تو ہے بہت
بہتر ہے ان کے غول میں تازہ ہوا بھی ہو
ان غم زدوں کے واسطے دنیا نئی بسے
اس کرب و ہجر و درد کی اب انتہا بھی ہو
وہ لے گیا یقین کی حد تک مجھے مگر
اس عشق کے مقام پہ وہ چاہتا بھی ہو
بچھڑے ہوئے یوں پیار کی صدیاں گزر گئیں
دل کی گلی میں واپسی کا راستہ بھی ہو
سرد و گرم نظام میں رہ کر میں کیا کروں
منظر کوئی تو گھر میں مرے دلکشا بھی ہو
وشمہ تمہارا عشق یہ شعر و سخن تو ہے
اس شاعری میں زندگی کا در کھلا بھی ہو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






