فصیل شب کی سیا ہی میں روشنی دیکھوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیویارکفصیل شب کی سیا ہی میں روشنی دیکھوں
میں بجھتی شام کی آنکھوں میں زندگی دیکھوں
میں نے گلہائے محبت میں سدا رہنا ہے
کیسے ممکن ہے تری آنکھ میں نمی دیکھوں
پڑا جو وقت تو سب نے ہی ساتھ چھوڑ دیا
جہانِ رنج میں پھیلی یہ بے بسی دیکھوں
گرا دیا ہے کسی گہری کھائی میں جس نے
اسی کی آنکھ میں الفت کی روشنی دیکھوں
اب اعتبار کروں بھی تو کس طرح تم پر
تمارے پیار کی باتوں میں جب کمی دیکھوں
منافقت سے حقیقت تمھاری کھل تو گئی
تمارے چہرے پہ پھر بھی میں عاشقی دیکھوں
چلو یہ اچھا ہوا آنے والے طوفاں سے
میں دے دوں جان یہ وشمہ کہ زندگی دیکھوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






