عید کے دن
Poet: Mazhar Iqbal Samar By: Mazhar Iqbal Samar, kharian city-GUJRATکوئی عہد پیماں کوئی وعدہ کرنا عید کے دن
تجدید عہد محبت کا ارادہ کرنا عید کے دن
عشق کی آگ میں، میں اکیلا کیوں جلوں
حساب تو آدھا آدھا کرنا عید کے دن
پلکوں تک ہی رہنے دینا یہ آنسو تم
غم نہ اور تم ذیازہ کرنا عید کے دن
میرے جانب ہی تیرے قدم اٹھیں گے
ذرا سفر تو بلا ارادہ کرنا عید کے دن
بن سنور کے میرے پاس ہی آنا تم
دل کو اور دل دادہ کرنا عید کے دن
کوئی پوچھے تو اسی کا نام لینا مظہر
فیصلہ یہ سیدھا سادھا کرنا عید کے دن
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







