عشق کی سزا دو
Poet: naila rani By: naila rani, karachi عشق کی سر حدوں پر پہرے لگا دو
اے عقل والو ہمیں یوں بی سزا دو
ہم نہ آ ئیں گے عا جز ہمیں تم آزما لو
اب جا و کف قا تل سے خنجر با ہر نکا لو
ہمیں پا گل خا نے بھجواو اور پا گل کہلوا لو
ارے ہما ری سات نسلوں کو سو لی لگا دو
رب نے عطا کیا ہے درد دل کی دوا دو
ا نسان تو ہیں ہم ہمیں عاشق رسول بنا دو
جلوہ طور پہ جو د یکھا منظر موسی نے دکھا دو
ہمیں آزاد کرو اور عشق کی منزل پہ پہنچا دو
ہم عشق کے متو لی ہیں اے عقل کے متوا لو
نمرود بن جا و اور آتش عشق کی سزا دو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






