عشق پر ہجر کا کیسا ہے غضب، دیکھ ذرا
Poet: azharm By: Azhar, Dohaعشق پر ہجر کا کیسا ہے غضب، دیکھ ذرا
مر مٹے پر نہ ملی وصل کی شب، دیکھ ذرا
حسن کی ایک نظر حشر بپا کردے گی
جی اُٹھیں گے وہ سبھی، جان بلب، دیکھ ذرا
دیکھتا روز تماشا ہوں نیا میں بھی یہاں
میرا کچھ ساتھ تو دے، تُو بھی یہ سب دیکھ ذرا
جس سے ملنے کو جتن لاکھ کیے تھے میں نے
اُ س سے بچھڑا ہوں تو ہے ایک سبب ، دیکھ ذرا
ساتھ مانگا ہے ترا، اور نہیں کچھ مطلوب
مدعا دیکھ مرا، میری طلب دیکھ ذرا
ختم ہونے کو نہیں آے ابھی میرے الم
چھیڑ بیٹھا ہوں مگر ساز طرب دیکھ ذرا
پوچھتے کیا ہو نگاہوں کو جھکانے کا سبب
میرا برتاو، مری حد ادب، دیکھ ذرا
تاک میں دوست بھی ہیں اور عدو بھی اظہر
اب ترے پیش نظر ہو کہ عقب، دیکھ ذرا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







