عشق
Poet: بشارت کریم By: بشارت کریم, pupriآنکھوں سے اپنے ساراقصہ سنائیں گے
جس دن صنم تیری محفل میں آئیں گے
وعدہ ہمارا ہے ہم ساتھ نبھائیں گے
جتنا بھی روٹھوگے تم اتنا منائیں گے
تمہی ہے خیار مجھ کو دل سے مٹادینا
ہم تو قیامت تک رہ تجھ کوبھلائیں گے
جب تک ہے سانس باقی تجھ کو ہی چاہیں گے
تیرا ہی عاشق بن کے دنیا میں چھائیں گے
سکھیاں تمہاری تیری ڈولی سجائیں گی
دوست ہمارے مجھ پہ پھول لٹائیں گے
تیرے ہی خاطر پھر سے دنیا میں آئیں گے
کسی کا نہ ہونے دیں گےاپنا بنائیں گے
اک دن زمانہ میرا قصہ سنائے گا
قسم خداکی تجھ کو یاد ہم آئیں گے
جی بھر کےدیکھ لینا چہرہ کریمی کا
شاید دوبارہ پھرنہ کفن ہٹائیں گے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






