طرحی مشاعرہ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیویارکاپنی دنیا سے کیوں خفا ہوتی
تیرے در کی اگر گدا ہوتی
غم نہ ملتے جو تیری ہجرت کے
اپنے آنگن کی میں ہوا ہوتی
بیٹھی رہتی تمارے گلشن میں
میں بھی بلبل کی گر صدا ہوتی
مجھکو میری وفا نے کچھ نہ دیا
اچھا ہوتا جو بے وفا ہوتی
تو جو مل جاتا پیار کی صورت
کیوں مقدر سے میں خفا ہوتی
میں بھی تجھ کو ہی مانگتی رب سے
تیرے ہاتھوں کی میں دعا ہوتی
دل تقاضے نہ کر رہا ہوتا
روح تن سے اگر جدا ہوتی
شکلِ خوشبو جو کھِل رہی ہے کلی
شکلِ ہستی میں باوفا ہوتی
تو جو ملتا وفاؤں کی صورت
وشمہ ایسے نہ لا پتہ ہوتی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






