شھر دے لوگ
Poet: نعمان صدیقی By: Noman Baqi Siddiqi, Karachiکج شھر دے لوگ وی ظالم سن
کج سانوں مرن دا شوق وی سی
کی زمین پر
کچھ شہر کے لوگ بھی ظالم تھے
کچھ شوق ہمیں تھا مرنے کا
کچھ تھپکی تھی کسی کی ذرا
کچھ شوق ہمیں تھا دھرنے کا
کچھ وہ کندھوں پہ اُٹھاتے تھے
کچھ شوق ہمیں تھا اُبھرنے کا
کچھ حکومت بھی متصادم تھی
کچھ شوق ہمیں تھا لڑنے کا
کچھ انا بھی اُن کی آڑے تھی
کچھ شوق ہمیں تھا آڑنے کا
کچھ شیخ تھے جو اُکساتے تھے
کچھ شوق ہمیں تھا بِھڑنے کا
کچھ سیاسی کزن کان بھرتے تھے
کچھ شوق ہمیں تھا بھرنے کا
کچھ ووٹ بھی ہم کو گراتے تھے
کچھ شوق ہمیں تھا گِرنے کا
کچھ عشق پہ حُسن اُکساتا تھا
کچھ شوق ہمیں تھا کرنے کا
کچھ شاعری نعمان پہ آمد تھی
کچھ شوق ہمیں تھا کرنے کا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






