شکایت
Poet: سُلطان سَکون By: Yasir Malik, karachiلب پہ اِک نام بڑی دیر کے بعد آیا ہے
غم...سَرِ عام بڑی دیر کے اُسے بعد آیا ہے
اُن سے بِچھڑے ہیں تو قابو مِیں ہمارے آخر
دلِ ناکام بڑی دیر کے بعد آیا ہے
ہر خطا ہم ہی سے منسُوب ہوئی ہے پہلے
اُن پہ اِلزام بڑی دیر کے بعد آیا ہے
یا تو آئی ہے بہار اب کے بڑی دیر کے بعد
یا وہ گُلفام بڑی دیر کے بعد آیا ہے
اور کُچھ دیر ٹھر جاؤ عنایت ہو گی
دِل کو آرام بڑی دیر کے بعد آیا ہے
روز آ جاتا تھا گھر اپنے سرِ شام " سَکُون
آج کی شام بڑی دیر کے بعد آیا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






