شب قربت غم ھجراں کے جب امکان دیکھیں گے
Poet: Tanvir Sheraz By: Tanvir Sheraz, (Khurrianwala) Faisalabadشب قربت غم ھجراں کے جب امکان دیکھیں گے
محبت میں زیادہ کس کو ھے نقصان دیکھیں گے
سمندر موجزن ھے اور صحرا پیاس میں ڈوبا
ملیں گے جب بھی دونوں اک نیا طوفان دیکھیں گے
بگولے دشت کے جب بھی سمندر پر چلیں گے تب
سفینے بیچ پانی میں چھپے ہیجان دیکھیں گے
جگر کے خون سے سینچا محبت کا شجر میں نے
زمیں کی کوکھ میں ایسا کھاں انسان دیکھیں گے
مسافر ڈھونڈ لیں گے منزلیں اپنی سھولت سے
کوئی جگنو کسی جنگل کا جب دربان دیکھیں گے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






