سچائی کو افسانوں میں لکھیں گے کسی دن
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاسچائی کو افسانوں میں لکھیں گے کسی دن
باطل کی تو ہر حال میں لائیں گے کسی دن
میں اپنے مقابل ہی کھڑی سوچ رہی ہوں
باغوں کی فضاؤں میں یہ آئیں گے کسی دن
آنکھوں میں ہے اک درد کا طوفان اگر چہ
اک ایسی گھٹن ہے کہ بلائیں گے کسی دن
جب اس نے محبت کا زمانہ نہیں ہونا
اب نقش محبت کا بنائیں گے کسی دن
سو جاتے ہیں سب اوڑھ کے لمبی سی جدائی
ان ہجر کی راتوں سے جگائیں گے کسی دن
اب موسمِ باراں کی تڑپ ہے مجھے شاید
گھر اپنے جو صحرا بھی بلائیں گے کسی دن
جو دل کے خذینے میں مرے راز چھپے ہیں
اک بار بھی سینے سے لگائیں گے کسی دن
دریا پہ کوئی پیاس کا پیکر بھی نہیں ہے
اور دل کے سمندر میں نہائیں گے کسی دن
جس زیست کے بازار میں بیٹھی ہوں میں وشمہ
اس زیست کا یہ بوجھ اٹھائیں گے کسی دن
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






