سچ پوچھئے تو آپکو چاہا ہی بہت تھا
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillاب کے چمن بہار میں مہکا ہی بہت تھا
اے جان تجھے سوچ نے سوچا ہی بہت تھا
کہنا پڑی ناں بات وہ آخر بروئے شب
خوشبو نے بھولی یاد کو چھیڑا ہی بہت تھا
پلکوں پہ سجے ضبط کے بند ٹوٹنے تو تھے
کچھ دن سے میری جان میں تنہا ہی بہت تھا
پھر کیا کہ اگر ہم بھی ڈبو آئے سفینہ
لہروں کی کرامات کا چرچا ہی بہت تھا
بکھرے تو ہونگے ہاتھ میں تیرے حنا کے رنگ
وحشت میں تیرے نام کو چوما ہی بہت تھا
یادوں سے میری دیپ جلیں کیوں نہ تمہارے
سچ پوچھئے تو آپکو چاہا ہی بہت تھا
کیونکر وجود حرف سے پھوٹے نہ سویرا
تم پر میرے وجود نے لکھا ہی بہت تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






