سوچتا ہوں کہ بدل لوں خود کو
Poet: Majassaf imran By: Majassaf imran, Gujratسوچتا ہوں کہ بدل لوں خود کو مگر سچ کہ اب یہ ممکن بھی نہیں
سوچتا ہوں بہہ جاؤں کسی دریا کی طغیانی میں کہتے ہیں کنارے تیرا کوئی جرم نہیں
سوچتا ہوں اسے منگنا چھوڑ دو اب خدا سے
کہتی ہے دعا بعد اسکے تیری کوئی دعا بھی نہیں
سوچتا ہو کہ اب اسے اسی کے حال پہ چھوڑ دوں
کہتا ہے عشق وہ پاگل ہے سوا تیرے اسکا کوئی نہیں
سوچتا ہوں کہ اب چھوڑ دوں خود کو جلانہ خود کو رولانا
کہتا ہے سگریٹ سوا میرے تیرا کوئی رقیب بھی نہیں
سوچتا ہوں کہ اسے اس کی مخبت کی نظر کر دوں
دل کی صدا اچھا ہے وقت اسکا سوا اس کے کچھ نہیں
سوچتا ہوں اب کبھی وہ ملے تو نظریں جھکا کے گزر جاوں
کہتا ہے خیال اتنا نہ کر ظلم تیرے بس میں یہ بات نہیں
سوچتا ہوں کہ کر لو گھر کسی گورستاں اب میں اپنا
خواب کہتا ہے رک جا ارے رک جا اب تو بچا کچھ بھی نہیں
سوچتا ہوں کہ اب لوٹ بھی آئےتو منوں پھیر لو یہ کہہ کر کون ہو تم ؟
ایمان کہتا ہے نفیس سوا اسکے کسی اور کو دیکھا بھی تو نہیں ۔
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






