سوچا نہ تھا
Poet: S. Asghar Ali Shah Sahil By: S. Asghar Ali Shah Sahil, Karachiزندگی بھی یوں کبھی ٹھکرائے گی سوچا نہ تھا
وہ مجھے مل کر بھی بچھڑ جائے گی سوچا نہ تھا
وقت کا کیا ہے نہیں رہتا کبھی یہ ایک سا
وقت کے سنگ تو بھی بدل جائے گی سوچا نہ تھا
ساتھ جینے مرنے کی کھائیں تھی جو قسمیں سبھی
ایک پل میں ان کو توڑ جائیگی سوچا نہ تھا
وقت رخصت دیکھنا مڑ مڑ کے تیرا یاد ہے
دور جا کے مجھ کو بھول جائے گی سوچا نہ تھا
کٹ رہے تھے روز و شب ساحل بڑے ہی خوشگوار
درد دل مجھ کو وہ یوں دے جائیگی سوچا نہ تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







