سنو! میں منتظر ہوں ۔۔۔
Poet: ارسلان حُسینؔ By: Arsalan Hussain, Karachiسنو! میں منتظر ہوں
موجِ رفاقت میں کَٹھِن وقت کے گزرنے کا
زرا دُکھ سے اُبھرنے کا
ایک ایسے معجزے کا
جو میری آنکھوں کو خوابوں کی روشنی بخشے
میرے دل کو اُمیدوں سے آراستہ کر دے
یہ جو ہیں درد کے پروانے
کبھی خواہش کی شمع میں
جل کر راکھ ہو جائیں
یہ پھر اشکوں کی صورت
میری آنکھوں سے بہہ جائیں
خُشک مٹی کو اپنا کر
یہ بھی خاک ہو جائیں
میری ذات کے آنگن میں
ہنسی کی گونج یوں گونجے
اداسی ڈر کے چُھپ جائے
موقید دھلیز پر میرے
تنہائ کے ڈیرے کو
لوگ چوکھٹ پے یوں روندیں
اِک تماشہ سا لگ جائے
میں اب بھی منتظر ہوں
ایک ایسے معجزے کا
جو میرے احساس اور جزبوں کی سانسوں کو رَواں کر دے
میری اُجڑی ہوئ آنکھوں کو کوئ جِلاَء بخشے
میرے قدموں کی ساعت میں مکمل منزلیں لکھ دے
میں اب بھی منتظر ہوں
سنو! میں منتظر ہوں
میں تمھارا منتظر ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






