سنو!!! تم کو ن ہو میرے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadسنو!!! تم کو ن ہو میرے
کوئی خواہش ہو دل کی یا
اُمید کا جگنو ہو
کوئی خواب ہو بن دیکھا
یا من کی خوشبو ہو
سنو!!! اے اجنبی خواہش
اِس دل کے بام ودر
لبریز ہیں پہلے سے
یہاں کچھ زخم رہتے ہیں
یہاں کچھ درد بستے ہیں
تم کہیں بھولے بھٹکے تو
اِدھر کو آ نہیں نکلے؟
زرا سا رُک کے چند لمحے
زرا سا غورہی کر لو
شکائت پھر نہ کوئی ہو
کہ رستہ چن لیا ہے جو
اگر پُرخار نکلا تو
کہیں کانٹا نہ چُب جائے
کہ زخم جب دل پہ لگتے ہیں
بڑا ہی درد دیتے ہیں
جنہیں وقت کا مرہم بھی
اگر بھرنا کبھی چاہے
تو بہت سی دیرلگتی ہے
زخم گر بھر بھی جائیں تو
نشانی چھوڑ جاتے ہیں
گزرے ہوئے ہر پل کی
کہانی چھوڑ جاتے ہیں
ابھی بھی سوچ سکتے ہو
ارادہ بدل ہی ڈالو
کہیں بے دھیانی میں
تمھیں ٹھوکر نہ لگ جائے
دوگام بھی چلنا
کہیں مشکل نہ ہو جائے
کہ اس مسافت میں
کبھی منزل نہیں ملتی
امید کی ڈالی پر
نئی کونپل نہیں کھلتی
ہاں ارادہ ہے اگر دل میں
انہی راہوں پہ چلنے کا
انہی شعلوں پہ جلنے کا
تو چپکے سے چلے آو
میر ی آغوش حاضر ہے
کہ اب یہی تیرا گھر ہے
مقدر جو بھی ہوگا پھر
ہم ساتھ جھیلیں گے
شب ِ ظلمت کا آنگن ہو
یا تپتی دھوپ کا دن ہو
کبھی نا ساتھ چھوڑیں گے
کبھی نا ہاتھ چھوڑیں گے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






