سنو! تم مجھے دور دور سے ملا کرو
Poet: Shaikh Khalid Zahid By: Shaikh Khalid Zahid, Karachiتم خوش رنگ رنگوں سے معمور
تم مجسم مرمری
تم پھولوں سی نازک
تم جگنوؤں سے روشن
تم بہاروں سی چنچل
تم زندگی سے بھرپور
سنو
تم مجھے دور دور سے ملا کرو
کہیں میرے آلودہ جسم وروح کی زد میں نہ آجاؤ
اور میری طرح بے نور نہ ہوجاؤ
دینے کو میرے پاس
فقط لفظوں کہ اور کچھ بھی نہیں
دیکھو
تم سے زندگی ابھی بہت خوش ہے
اور تم بھی زندگی سے
میری دعا، کہ تم دونوں ہمیشہ ساتھ رہو
میرے تو جسم میں کچھ قید ہے
اور، جس دن وہ آزاد ہوا
زندگی نے مجھے بھی آزاد کردینا ہے
مگر تمہیں جینا ہے
زندگی کے لئے اور اپنے لئے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






