سنا ہے رات کو خوابوں میں پھر نواز آیا؟
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillتمہاری آنکھ میں اک جھلملاتا راز آیا
سنا ہے رات کو خوابوں میں پھر نواز آیا
ڈھونڈ کر لائی ہے آوارگی تمہارا نقش
جنوں کے حصے میں لو آج ارتکاز آیا
ہے جس میں صرف خیالوں کی ایک کوزہ گری
اے جان ایسی محبت سے میں تو باز آیا
چھین کر تجھ سے تیرا دل تجھی کو سونپے گا
چلو کہ آج مقابل کرشمہ ساز آیا
جبین شوق کو رکھتا ہوں ترے قدموں میں
میں ہو کے جنت و دوزخ سے بے نیاز آیا
حجاب اٹھنے لگے بزم میں اعلان ہوا
نظر اٹھا اے حقیقت ترا مجاز آیا
کبھی رچی تھی جس میں زندگی کی شہنائی
وہ لمحہ آج دبے پاؤں بے آواز آیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







