سردیوں کی حسین و رنگین شام میں
Poet: Shoaib Iqbal By: Moona, sialkotسردیوں کی حسین و رنگین شام میں
اتنا کیوں دل میرا اداس ہے
پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی
کیوں اداسیوں کا راج ہے
سجائی ہے ہونٹوں پہ مسکراہٹ میں نے
پھر آنکھوں میں کیوں آنسوؤں کی برسات ہے
کبھی زندگی سے بیزاری پہلے نہ تھی
اب کیوں اتنا شدت سے احساس ہے
لاکھ چاہا ماضی سے دامن چھڑانا
لیکن چہرہ کیوں پھر وہ مجھے یاد ہے
چھوڑ آیا ہوں دیس تیرا اب تو
جذبہ کیوں پرانا اب بھی جوان ہے
زندگی آخری سانسوں پہ ہے میری ساحل
انتظار کیوں تیرے لوٹ آنے کا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






