سدا اجلے خیالوں میں تمہارا عکس دیکھا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاسدا اجلے خیالوں میں تمہارا عکس دیکھا ہے
محبت کے گلابوں میں تمہارا عکس دیکھا ہے
نصابِ زندگانی میں بہت ہیں تلخیاں لیکن
وفا کی ان کتابوں میں تمہارا عکس دیکھا ہے
بہت ہی دلنشیں ہے یہ ثقافت میری دھرتی کی
یہاں رکتی بہاروں میں تمہارا عکس دیکھا ہے
تمارے نام سے میری ہر اک شب جگمگاتی ہے
کہ سورج ،چاند ،تاروں میں تمہارا عکس دیکھا ہے
کبھی دیکھا تمیں میں نے گلوں کی ڈال پر کھلتے
کبھی خوشبو کے خوابوں میں تمہارا عکس دیکھا ہے
تمہاری ذات اے وشمہ وفا کا اک جزیرہ ہے
سمندر کے کناروں میں تمہارا عکس دیکھا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






