سخن لکھتا ہوں، لفظوں سے مرید کرتا ہوں
Poet: By: Shahid Hasrat, Multanسخن لکھتا ہوں، لفظوں سے مرید کرتا ہوں
نیا شاعر ہوں، شاعری بھی جدید کرتا ہوں
جس کام سے نہ ملے مجھکو، پذیرائی ذرا بھی
اس کام کو میں ضد میں، مزید کرتا ہوں
مغموم سے چہرے مجھے، بھاتے نہیں ہیں
آئینے سے ذرا کم ہی، گفت و شنید کرتا ہوں
لوٹانے کا ہوں قائل، قرض ہو کہ احساں ہو
محبت ہو کہ نفرت ہو، بہت شدید کرتا ہوں
عشقِ حقیقی میں جیسے، اک رب کو مانتا ہوں
مجاذی عشق میں یہی، عملِ توحید کرتا ہوں
لکھتا ہوں شبِ تنہائی میں،شاعری جسکے لیۓ
شاید وہ سمجھ جائے، یہی اُمید کرتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






