سانسوں میں سانسیں گھل جائیں
Poet: Seema Naaz By: Seema Naaz, Baltimoreسانسوں میں سانسیں گھل جائیں ہم اتنا قریب ہوجائیں
جینا سہل ہوجائےایسی اگر چند ساعتیں نصیب ہوجائیں
میرے ہونٹ ترستے ہیں تیرے لبوں کی حلاوت کے لئے
تمہیں پانے کی خاطر تیار ہوں خود سے بغاوت کے لئے
تمہارےلبوں کی نرمی کو محسوس کرسکوں ہاتھوں سے
تمہاری خاموشی مجھے آشنا کر دے نت نئی باتوں سے
میرے کھلے ہونٹ تمہیں اجازت دیتے ہیں چومنے کے لئے
جسم بے چین رہتا ہے تمہارے بازووں میں جھولنے کے لئے
خیالوں میں تمہیں چھو رہی ہوں میں تمہاری ہو رہی ہوں
یہ کونسی دنیا ہے میرے ہمدم جس میں میں کھو رہی ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






