سارے فتنے تھے قاتل نظر کے
Poet: Tanzeem Akhtar By: Tanzeem Akhtar, dohaسارے فتنے تھے قاتل نظر کے
ٹکڑے ٹکڑے ہوۓ ہیں جگر کے
اور کس کو یہاں اپنا کہتے
جتنے دشمن ملے اپنے گھر کے
نام تیرا ہی سب پر لکھا تھا
جتنے ٹکڑے ہوئے تھے جگر کے
یاد آتا ہے اس کا وہ چہرہ
وقت رخصت جو دیکھا ٹھہر کے
ایک اک کر بچھڑنے لگے ہیں
ہم سے ساتھی سہانے سفر کے
یاد پھر آگئی آج ماں کی
رو دئیے آج پھر آنکھیں بھر کے
عمر پیری میں یاد آتے اکثر
ہم کو قصے پرانے دہر کے
جی نہیں لگتا دنیا میں تنظیم
تو چلیں دیکھیں جاں سے گزر کے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






