سارے عالم سے میں بے خبر ہو گیا
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, Jhangسارے عالم سے میں بے خبر ہو گیا
جب سے اس کا مرے دل میں گھر ہو گیا
میری ان سے ہمیشہ عداوت رہی
جن کا تیری گلی سے گزر ہو گیا
جانتا تھا کہ وہ سچ نہیں کہہ رہا
اس کی باتوں کا پھر بھی اثر ہو گیا
جسم کی بھوک جب حد سے باہر ہوئی
اِنس رشتوں سے بھی بے خبر ہو گیا
کاٹ کر اس کا ایندھن بنایا گیا
پیڑ گلشن میں جو بے ثمر ہو گیا
تنگ مظلوم پر یہ زمیں ہو گئی
اور ظالم یہاں پہ نِڈر ہو گیا
رہنما اور رہزن کی تفریق میں
طے مری زندگی کا سفر ہو گیا
ایک شبنم کا موتی تھا دیپک مگر
وقت کی آگ میں یہ شرر ہو گیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






