زلفوں میں تیری یاد کا گجرا سجا بھی ہو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیازلفوں میں تیری یاد کا گجرا سجا بھی ہو
ہاتھوں پہ میرے پیار کا رنگِ حنا بھی ہو
پھیلے ہوئے ہیں چار سو دشمن حسین کے
ممکن ہے پھر سے معرکہ کرب و بلا بھی ہو
ہر دم تمہارے دل کا میں پیغام پڑھ سکوں
آنکھوں کا تیری سامنے اک آئینہ بھی ہو
تنہائیوں کی سیج پہ جل کر گزار لی
اس زندگی کا روح سے اب فاصلہ بھی ہو
میں اجنبی ہوں شہر میں سودائی تو نہیں
کوچے میں تیرے میرا کوئی آشنا بھی ہو
دل میں ہمیشہ میرے یوں ہی روشنی رہے
حبِّ خدا کے بعد حبِّ مصطفے بھی ہو
وشمہ مری حیات ہے گلشن نما یہاں
آنکھوں کو ایک پیار کا سپنا عطا بھی ہو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






