زخموں کو چیر چیر کے ہر دم جواں کروں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاسینے میں میرے درد ہے کیسے بیاں کروں
کیسے تمہارے سامنے دل کو عیاں کروں
لکھی ہیں میں نے شعروں میں زندہ کہانیاں
اس کے سوا کیا میں رقم داستاں کروں
میں نے صعوبتوں میں گزاری ہے زندگی
تقسیم اپنے درد کو دلبر کہاں کروں
ہو گا نہ ختم آج مرے درد کا سفر
دریا کو اپنی آنکھ سے ہر دم رواں کروں
ایسا نہ ہوکہ خواب ہی بن جائے زندگی
ایسا نہ ہو کہ خواب ہی خود کو گماں کروں
دکھ اتنے گہرے روح میں زخموں کے ہو گئے
زخموں کو چیر چیر کے ہر دم جواں کروں
جو کل سماج میں تھے مسائل ہیں آج بھی
کیا کیا ہیں دردِ زندگی تم سے بیاں کروں
اک تم ہو بیوفائی کا پیکر جہان میں
میں تو وفا کو خون سے ہر دم جواں کروں
دکھ سکھ میں ساتھ میرا نبھاؤ نا عمر بھر
وشمہ میں کیسے روح کو نوکِ سناں کروں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






