راستے سے تیرے تنہا ہونے نہیں چاہتے
Poet: شاعر رائٹر سید انس By: Annas, Mirpur manglaراستے سے تنہا تیرے ہونا نہیں چاہتے
دور ہو کر بھی منزل تجھے کھونا نہیں چاہتے
رو کر بھی دل میں آنسوؤں بہانا نہیں چاہتے
تیری یاد سے جڑ کر بھی تجھے رولانا نہیں چاہتے
تیری کمی کہ غم سہہ کر بھی خود دکھانا نہیں چاہتے
سانسوں سے آہ نکال کر تمہیں بتانا نہیں چاہتے
انس ہم ہزاروں درد سہہ کر
سیف بھائی تجھے اپنے گزشتہ قصہ سنانا نہیں چاہتے
عام الفاظ میں رات بھر جاگنے کا مقصد
کہیں الفاظ میں ہم لانا نہیں چاہتے
خوش ہیں بھائی آپ کی یاد سے اگر
تو پچھلی زندگی کے واقعات جتانا نہیں چاہتے
سوتے ہیں ضرور مگر
ان لمحات کو نیند سے اٹھانا نہیں چاہتے
عشق کا زخم ہی گہر ہے بھائی
جو ہم سینوں سے چاہتے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






