راز لیلاوں کے غزلوں میں یوں گائے ہم نے
Poet: زبیر احد By: زبیر احد, Faisalbadراز لیلاوں کے غزلوں میں یوں گائے ہم نے
قیس کے دشت سے دیوانے بچائے ہم نے
عمر میں چھوٹی ہے دس سال وہ مجھ سے لیکن
خواب اک دوسرے کے پھر بھی سجائے ہم نے
شہرِ الفت کے تقاضوں کا بھرم رکھا ہے
تبھی دہلیز پہ آنسو نہ گرائے ہم نے
قیس جن مشکلوں میں دشت میں جا بیٹھا تھا
فرض بیٹوں کے بھی اس میں نہ بھلائے ہم نے
اپنی الفت کی گواہی کو یہی کافی ہے
دیپ امکاں کے ابھی تک نہ بجھائے ہم نے
رکھ دیا سارا سخن پاؤں میں ہم نے اس کے
اپنے شعروں پہ سنی یونہی وہ ہائے ہم نے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






