رابطے محبت کے
Poet: Maria riaz By: Maria Ghouri, Haroona abadرابطے محبت کے ختم ہونے سے بھی نہیں ہوتے
یہ ایسی زنجیر ہے جو ٹوٹنے سے بھی نہ ٹوٹے
اندیکھی منزل: انجانے راستے بے نام فاصلے
یہ ایسی مسافت ہے مسافر تھکنے سے بھی نہ تھکے
بے نام افسانے ادھوری کہانی: نا مکمل شاعری
یہ ایسے دیوان ہیں پورے ہونے سے بھی نہیں ہوتے
انسوؤں کا سمندر ہے: رسوائیوں کا گھر ہے. بدنامی اس کا نام ہے
یہ ایسی بے وفائی ہے وفا کرنے سے بھی وفا میں نہ بدلے
تیز آندھی ہے کالا طوفان ہے. نہ ختم ہونے والی بارش ہے
یہ ایسا سیلاب ہے روکنے سے بھی نہ روکے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






