دے گیا باغباں کو ہمیشہ کا غم
Poet: Qasim Baba By: Qasim Baba, Slough Londonدے گیا باغباں کو ہمیشہ کا غم
پھول کھلنے سےپہلے جو مرجھا گیا
بن کے خوشبو رہا ساتھ کچھ دیر وە
پھر چمن میں خزاوٴں کو بکھرا گیا
وصل کے ایک قطرے کے بدلے مجھے
وحشتوں کے سمندر وە دکھلا گیا
وقتِ رخصت وە جب میری باہوں میں تھا
درد کی آندھیوں سے میں ٹکرا گیا
خواب ہے خواب ہے اور کچھ بھی نہیں
زندگی کی حقیقت وە بتلا گیا
اُس کے قدموں کو چومے گی خُلدِبریں
راحتیں ذندگی کی جو ٹھکرا گیا
اُس کو خوشبو لکھوں یا لکھوں پھول میں
آسمان و زمیں کو جو مہکا گیا
مجھ کو جنت ملے گی تیرےنام کی
روزِ محشر مجھے جو پکارا گیا
خلد میں بس کمی تھی اے آدم تیری
اس لیے تجھ کو شاید بلایا گیا
لے گیا ساتھ اپنے وە میرا جہاں
کب وە دنیا سے قاسم ہے تنہا گیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







