دیکھا تمہاری آنکھ میں تو جان سے گئے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلادیکھا تمہاری آنکھ میں تو جان سے گئے
حضرت ! تمہارے پیار میں ایمان سے گئے
یہ انتہائے عشق ہے محور حیات کا
کوچے میں تیرے جب بھی گئے شان سے گئے
پہلے تو مل کے مارنے کی حد پہ آگئے
قربت بڑھی تو درد بھی پہچان سے گئے
تنقید کی تو قلب و نظر کھودیئے یہاں
نازک لبوں کی سحر کی مسکان سے گئے
بہتے دنوں کی نظم بھی پڑھتے رہے مگر
منکر تھے سارے عشق کے فرمان سے گئے
جب دوستوں نے پیار کے اوراق پڑھ لئے
پھر بار بار مل کے وشمہ خان سے گئے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






