دیدار
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAMکیا ہوا جو وہ دیتے ہمیں دیدار نہیں
ہم بھی ان کی دید کے بیمار نہیں
جو برے وقت میں تنہا چھوڑ جائیں
ہم ایسے بے وفا یار نہیں
وہ ایک بار کوشش کر کے تو دیکھیں
ہمارے شہر میں آنا کوئی دشوار نہیں
اسے پیار کرنا میری مجبوری ہے
اس دل پہ مجھے کوئی اختیار نہیں
میں کیا جانوں یہ چاہت کیا ہے
میرا دل کسی کی محبت میں گرفتار نہیں
مغرور لوگ مجھے نہیں بہاتے
مجھے ایسے لوگوں سے سروکار نہیں
کبھی اپنے اصغر کو ملنے چلے آؤ
ہمارے راستے میں کوئی دیوار نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad








