دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو
Poet: ارشد ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiدرد کیا ہوتا ہے تم دل میں بسا کر دیکھو
اشک اپنے چھپا کر خود کو ہنسا کر دیکھو
تم بھی شامل تھے انہیں میں جو مجھے ڈھاتے تھے
میری تعمیر کرو مجھ کو بنا کر دیکھو
تم نے دیکھی ہی نہیں قوس قزح بارش میں
دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو
لوگ بھولے ہیں یاں کوئی بھی نہ پہچانے گا
ایک چہرے پہ کئی چہرے سجا کر دیکھو
جو مقدر میں نہیں وہ کبھی ملتا ہی نہیں
لاکھ ہاتھوں کی لکیروں کو دکھا کر دیکھو
کوئی مصرع ہی نہیں ہوتا مکمل جاناں
تم کسی ایک سے نام اپنا مٹا کر دیکھو
دور ہوجائیں گے سارے گلے شکوے اپنے
تم ہمیں پیار سے اک بار بلا کر دیکھو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






