دوستوں کی مہربانی دیکھ کر
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreآگیا ہوں شب سُہانی۔۔۔۔۔۔۔ دیکھ کر
دوستوں کی مہربانی۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھ کر
گل کھلے جاتے ہیں۔۔۔۔۔ کیا کیا دیکھئے
گل رُخوں کی گل فشانی ۔۔۔۔۔دیکھ کر
رُک گیا ہے چودہویں کا ۔۔۔۔چاند بھی
جانِ من تیری جوانی۔۔۔۔۔۔ دیکھ کر
خون ہو ہو جائے کیوں نہ ۔۔دل میرا
آپ کو یوں پانی پانی۔۔۔۔۔۔۔ دیکھ کر
ناگہاں یاد آگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دل کا لہو
تیرا آنچل ارغوانی۔۔۔۔۔۔۔ دیکھ کر
رُک گیا ہے وہ ۔۔۔۔۔۔صبا رفتار بھی
میری غزلوں کی روانی ۔۔۔۔۔دیکھ کر
ہر کس و ناکس کو ہم۔۔۔۔ دیتے نہیں
ہاں مگر دل کی نشانی۔۔۔۔۔۔ دیکھ کر
ٹوٹ نہ جائے حصارِ جاں۔۔۔۔ میرا
عشق کی یہ سرگرانی۔۔۔۔۔ دیکھ کر
ڈر ہے یہ شاعر نہ بن جاؤں۔ ۔کہیں
شاعروں میں قدر دانی۔۔۔۔ دیکھ کر
کم ظرف اِ س کو پی نہیں سکتے۔ وسیم
ہے غزل میں مے پُرانی۔۔۔ دیکھ کر
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






