دل کے تاروں کو چھیڑتی ہوئی تحریر ہو تم
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillدل کے تاروں کو چھیڑتی ہوئی تحریر ہو تم
میرے جذبوں کی نکھرتی ہوئی تصویر ہو تم
جنکے پہلو سے نکلتے ہیں حسن کے معنی
ان تمناؤں کی البیلی سی تعبیر ہو تم
یہ میرا جوگ مجھے ہر گھڑی بتاتا ہے
جسے لکھا ہے وارث شاہ نے وہی ہیر ہو تم
تمہارے ناز اٹھاتے ہیں چاند کے ہالے
رات کے ماتھے سے اٹھتی ہوئی تنویر ہو تم
حسن احساس کا دعوی ہے تم ہو مصرعہء فیض
حسن ادراک یہ کہتا ہے غزل میر ہو تم
ایک تم سے ہی تو سیکھا ہے لفظ کا مطلب
حاصل شوق میرے ذوق کی توقیر ہو تم
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






