دل کے ارماں کو میرے خوب ابھارا اس نے
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiدل کے ارماں کو میرے خوب ابھارا اس نے
ایسا معصوم تھا کہ پیار سے مارا اس نے
قتل ہوتے نہ چراغوں سے اندھیرے اب تک
کاش چہرے سے حجاب ہوتا نہ اتارا اس نے
ذاتِ عاشق بھی عجب حوصلہ مند ہوتی ہے
ایک اس ضمن میں ہی، ہے تو نکھارا اس نے
اضطرابِ دلِ مجبور بڑھا جاتا ہے
کردیا ہے مجھے حالات کا مارا اس نے
جلوہءِ طور تو عاشق کیلئے تھا ورنہ
اپنی قدرت کا نشاں ہر سو اتارا اس نے
میں تو بیگانہءِ اندازِ خرد ہوں احسن
پند و نصیحت بھی نہ سمجھی ہے گوارا اس نے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






