دل کی بستی کو دیکھ کر خاموش
Poet: ابنِ مفتی By: سید اے مفتی, houstonدل کی بستی کو دیکھ کر خاموش
رہ نہیں پائی چشم تر خاموش
دن بھی اتنا ہی شور کرتا ہے
رات ہوتی ہے جس قدر خاموش
جونہی بے باکیاں حیا سے ملیں
شرم تھی گویا تربتر خاموش
شاخ دھڑکن کی سوکھتی جائے
دل کاجب سے ہوا شجر خاموش
دل کا کلمہ لگا کے کان سنو
گوبظاہر یہ ہے حجر خاموش
اِذن پرواز کا بھی مل جاتا
ہوگئے آپ کے ہی پر خاموش
رہزنی بولتی ہے سر چڑھ کے
جب بھی ہوتے ہیں راہبر خاموش
ظلمتوں کی تو عید ہوتی ہے
جوں ہی ہوتی ہے اک سحر خاموش
کل گیا بستی ء خموشاں میں
کیا بتاوں تھے کتنے سر خاموش
بولنے لگ گئے سبھی گونگے
ان کو محفل میں دیکھ کر خاموش
نیند میں آتا ہے دبے پاوں
آج بھی مفتی خواب گر خاموش
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






