دل کا آزار زمانے پہ عیاں ہو سکتا
Poet: جمشید مسرور By: ساجد حمید, اوسلودل کا آزار زمانے پہ عیاں ہو سکتا
لفظ اے کاش تمنا کی زباں ہو سکتا
یہ سمجھتے ہی نہیں درد کا باعث کیا ہے
میرا دل کاش دل چارہ گراں ہو سکتا
دیکھ سکتا کسی خنجر کی لپک کا منظر
کوئی غمخوار قریبِ رگِ جاں ہو سکتا
چاند کی مشعل بیکار بُجھا دی جاتی
رات پر رات کا شدت سے گُماں ہو سکتا
کم نہ ہوتی جو تپش درد کے انگاروں کی
روح میں حوصلہِ ضبطِ فُغاں ہو سکتا
شعر بننے سے خیالات بِکھر جاتے ہیں
کاش جمشید یہ دُکھ یوں ہی بیاں ہو سکتا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






