دل نے دیکھا اُسے اور مچلتا ہُوا
Poet: Khan Muhammad Imran - Emron Mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawarدل نے دیکھا اُسے اور مچلتا ہُوا
اُس مہمان کی طرف بڑھنے لگا
میں نے روکا بہت، یہ پھسلتا ہوا
اُس مہمان کی طرف بڑھنے لگا
بہت سنبھالا مگر یہ سنبھلتا نہ تھا
بہت روکا مگر دل، کہ روکتا نہ تھا
بات بدلنے سے سوچیں بدلتی نہ تھیں
نظریں اُس سے کسی اوڑ پھرتی نہ تھیں
دل نے دیکھا اُسے اور مچلتا ہُوا
اُس مہمان کی طرف بڑھنے لگا
میں بہانے سے اُس کے پاس جانے لگا
دل کے احوال اُس کو سُنانے لگا
کبھی لرزتا، کبھی لڑکھڑاتا ہوا
اُس کی نظروں سے نظریں بچاتا ہوا
اُس کے ارد گرد چکر لگانے لگا
پیار باتوں، باتوں میں جتانے لگا
دل نے دیکھا اُسے اور مچلتا ہُوا
اُس مہمان کی طرف بڑھنے لگا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






