دل سے میری چاہت کو ہر گز نہ مٹا رکھنا
Poet: داد بلوچ فورٹ منرو By: داد بلوچ, Dera Ghazi Khan Fort Munroدل سے میری چاہت کو ہر گز نہ مٹا رکھنا
آؤں گا میں خوابوں میں خوابوں کو سجا رکھنا
ہر شام یہ عادت ہے نا کامِ محبت کی
یادوں کی منڈیروں پر کچھ دیپ جلا رکھنا
لالہ کے تصور میں مخمور نگاہوں کو
اشکوں کے دئیے روشن آنکھوں کو بجھا رکھنا
ہر شام جدائی کی محفل کو سجا لینا
بے داد و ستم سہنا احساسِ وفا رکھنا
اس ظلمتِ دوراں کا یہ دادؔ تقاضا ہے
شمعوں کو بجھا دینا اور دل کو جلا رکھنا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






