دسمبر کی پہلی رات کیسے بیتائی میں ہی جانو
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaدسمبر کی پہلی رات کیسے بیتائی میں ہی جانو
کیا حال ہوا جب یاد آئی میں ہی جانو
باہر سرد ہواؤں کے پہرے لگ گئے اور
اندر ہجر نے کیا آگ لگائی میں ہی جانو
بھولنے لگے تھے مشکل سے گزرے لمحے تمام
دسمبر نے پھر وہی بات اُٹھائی میں ہی جانو
محفل میں یاد آئے جو تم تو رونے لگے
کس طرح سے چشمِ نم چھپائی میں ہی جانو
دسمبر کا تو آغاز ہے میرے دلِ نادان
31دن رہے گی یہی سچائی میں ہی جانو
پلکوں کے آنچل پے اب اشک بھی جمنے لگے
یادوں کے ساتھ کُہرِ فضاہ چھائی میں ہی جانو
پھر سے عدالتِ عشق میں کھڑا کیا گیا
ہجرِ قید کی سزا گئی بڑھائی میں ہی جانو
دسمبر کی پہلی رات نے پاس بیٹھ کے میرے
نہال سے جو داستانِ ماضی لکھوائی میں ہی جانو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






