خیال جن کا ہمیں روز و شب ستاتا ہے
Poet: فیروز By: فیروز, Charsaddaخیال جن کا ہمیں روز و شب ستاتا ہے
کبھی انہیں بھی ہمارا خیال آتا ہے
تمہارا عشق جسے خاک میں ملاتا ہے
اسی کی خاک سے پھر پھول بھی کھلاتا ہے
ڈھلے گی رات تو پھیلے گا نور بھی اس کا
چراغ اپنا سر شام جھلملاتا ہے
نہ طے ہوئی تری شمع جمال سے بھی جو راہ
وہیں پہ میرا جنوں راستہ دکھاتا ہے
نہ جانے شوق کو عادت ہے کیوں بہکنے کی
ترا حجاب تو بے شک ادب سکھاتا ہے
کہاں بجھائے سے بجھتے ہیں عشق کے شعلے
چراغ یوں تو جو جلتا ہے بجھ بھی جاتا ہے
یہ باد راہ گزر در خور چمن نہ سہی
غبار کا بھی ٹھکانا نکل ہی آتا ہے
جنوں کی چال پہ ٹھٹکی نہ وہ نظر تنہا
یہاں زمانہ بھی قدموں میں لوٹ جاتا ہے
ہے تیرے غم کی غم روزگار سے سازش
کہاں کہاں دل دیوانہ کام آتا ہے
سرورؔ جنس وفا بیچتے نہیں پھرتے
جگر کے داغ دکھانا تو سب کو آتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






