خوشیاں لیے عید دستک دے دے کر گزر گئی
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaچاند نکلا جو عید کا غمی سینے میں اُتر گئی
اِک آس تھی ترے آنے کی وہ بھی بکھر گئی
میں کھویا ہوا تھا ترے غم میں کچھ اِس قدر
خوشیاں لیے عید دستک دے دے کر گزر گئی
جب لوگوں نے بتایا کہ کل عید آئی تھی
دیوانگی دیکھئیے پوچھنے لگے کدھر گئی کدھر گئی
اچھا ہوا جو تُو نہ آیا اِس عید پہ بھی
جان چھُوتی ، جان چھُوتی مر گئے فکر گئی
ساون کی رِم جھم بھی عید کی خوشیاں بھی
اشکوں سے دامن بھیگ گیا دل سے ہو جدھر گئی
میں بھول گیا جس کی یاد کے افسانوں کو
عید آ کے کان میں کر اُسی کا ذکر گئی
اپنی اُداسی کے الزام تم لگاؤ نہ دامنِ عید پر
سچ تو یہ ہے نہال تمہاری قسمت ہی سڑ گئی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






