خوبصورت یاد دہانی
Poet: Jamshed By: Jamshed, Dubaiسنو جاناں
اگرمیں ہارجاؤں تو ، مجھے تم حوصلہ دینا
بچوں کی طرح مجھ کو گلے سے تم لگا لینا
مجھے رونے نہیں دینا ، مجھے کچھ ایسے بہلانا
مجھے تم یاد کروانا سبھی باتیں جو اچھی ہیں
وہ پچھلی ہار کی باتیں جسے میں نے جیت میں بدلہ
وہ پھر سے یاد کروانا، تم کچھ ایسے دہرانا
وہ میرا ٹوٹ کےجڑنا
وہ میرا رو روکے ہنس دینا
وہ دعا مانگنا میرا ، وہ سجدوں میں میرا گرنا
وہ میرا سمیٹنا خود کو، وہ ہولےہولےکھڑا ہونا
مجھے تم بولنےدینا، نیا دکھ پھولنے دینا
ہمیشہ کی طرح اس ہار کا بھی کوئی سبب ہوگا
وہ مجھ سے جان لینا تم ، تمھارے کام آےگا
میری جاناں !میری ھمدم!میری اک بات مانوگی
میری ہاروں کوسہہ لینا ، تم میرے ساتھ ہی رہنا
مجھے تم تھپکیاں دینا، میرے بالوں کو سہلانا
کہ میرا حوصلہ تم ہو
کہ میرا گھونسلا تم ہو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







