خوبصورت ترے خیالوں میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Malaysiaخوبصورت ترے خیالوں میں
ایک سرخی ہے میرے گالوں میں
غم کے دریا میں آگ لگ جائے
کچھ تو ایسا ہے میرے اشکوں میں
میں بھی تیری یہ غم بھی تیرے ہیں
اب تو لے لے مجھے پناہوں میں
میں بھی پڑھتی ہوں تم بھی پڑھ لو نا
پیار اپنا یہ آنکھوں آنکھوں میں
گر نہ جاؤں کہیں بکھر کر میں
مجھ کو بھر لو نا اپنی بانہوں میں
کالی نگری میں آنکھ کھولی ہے
کیسے آؤں ترے اجالوں میں
تم بھی سوچو نہ دوسری دنیا
میں بھی بس لوں ترے خیالوں میں
میں نہ پہنچوں گی وقت پر وشمہ
غم کا دریا ہے میری راہوں میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






