خواہش
Poet: امجد اسلام امجد By: jawad ahmed, Karachiزندگی کے میلے مِیں خواہشوں کے ریلے مِیں
تُم سے کیا کہیں جاناں اِسقدر جھمیلے مِیں
وقت کی روانی ہے بخت کی گرانی ہے
سخت بے زمینی ہے سخت لامکانی ہے
ہجر کے سمندر میں تخت اور تختے کی ایک ہی کہانی ہے
تُم کو جو سُنانی ہے
بات گو ذرا سی ہے
بات عمر بھر کی ہے
عمر بھر کی باتیں کب دو گھڑی مِیں ہوتی ہیں
درد کے سمندر مِیں انگِنت جزیرے ہیں بے شمار موتی ہیں
آنکھ کے درئیچے پر تُم نے جو سجایا تھا
بات اُس دِیئے کی ہی ' بات اُس گِلے کی ہے
جو لہو کی خلوت میں چور بن کر آتا ہے
لفظ کی فصیلوں پر ٹُوٹ ٹُوٹ جاتا ہںے
زندگی سے لمبی ہے بات رَتجگے کی ہے
راستے مِیں کیسے ہو بات تخلیئے کی ہے
تخلیئے کی باتوں مِیں گُفتگو اِضافی ہے
پیار کرنے والوں کو اِک نِگاہ کافی ہے
ہو سکے تو سُن جاؤ ایک دِن اکیلے مِیں
تُم سے کیا کہیں جاناں اِسقدر جھمیلے مِیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






