خذبہ دکھانے کے لیے لوگ ہیں نا
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiجذبہ دکھانے کے لیے لوگ ہیں نا
خون بہانے کے لیے لوگ ہیں نا
گر یہ بنانی ہیں تو یادیں ہی بنا
فوٹو بنانے کے لیے لوگ ہیں نا
پیار اگر کرنا ہے تو خود سے ہی کر
اوروں سے کرنے کے لئے لوگ ہیں نا
اگر یہاں رہنا ہے خاموش رہو
باتیں بنانے کے لئے لوگ ہیں نا۔۔
رکھنا بھروسہ ہے تو خود پہ رکھو
ساڑ تو کھانے کے لئے لوگ ہیں نا
اچھا اگر کرنا ہے خود کو ابھی کر
نیچا دکھانے کے لئے لوگ ہیں نا
اپنی ہی شہزاد تو پہچان بنا
ساتھ نبھانے کے لئے لوگ ہیں نا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






