خؤرشّٰٰید صورت
Poet: syed irfan ali zaidi By: syed irfan ali zaidi, faisal abad نظر میں اس کے جلووں کا نظارہ باندھ لیتے ھیں
برایے موسم فرقت گزارہ باندھ لیتے ھیں
کھیں طالب نہ ھو جائے زمانہ تیری نظروں کا
تری خورشید صورت کو شرارہ بانھ لیتے ھیں
ھماری شاعری میں ھے ریاکاری کی گل کاری
ھمیں نفرت ھو جس سے اس کو پیارا بندھ لیتے
جھاں شعروں تیرا ذکر کرنا بھی خطا ٹھرے
وھان ھم خوب صورت استارہ باندھ لیتے ھیں
سنا ھے کاروبار عشق سے پھلے زیاں قسمت
ھمیشہ دامن دل میں خسارھ باندھ لیتے ھیں
سفر ھے پانیوں کا راہ میں گرداب ھیں زیدی
مناسب ھو تو کشتی سے کنارہ باندھ لیتے ھیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







