حَد سے سِوا ہوئی ، جو مری آرزُوئے دوست
Poet: عنایت الرحمان By: عنایت الرحمان, ایبٹ آبادحَد سے سِوا ہوئی ، جو مری آرزُوئے دوست
لیتا قدم کہیں کو میں ، اُٹھتے تھے سُوئے دوست
دونوں کی اک سی یاد ہے ، دونوں کا ایک داغ
آدم کو جیسے خُلد ہے ، ہم کو ہے کُوئے دوست
وجہِ نشاط و عیش ہیں ، پر صُورتیں الگ
اُن کو ہِلالِ عید ھے ، ہم کو ھے رُوئے دوست
ہر زخم ھے کہ ، ایک مہکتا ہوا گلاب
گلزار کر گئی ہے ہمیں، جُستجُوئے دوست
اغیار کے لئے ، تو تِرے بحرِ التفات
ہم تک کبھی نہ آئی کوئی آبجُوئے دوست
بحرِ بلا میں جائے پناہ ، اِک کشتئ اُمید
لیکن کہاں نصیب اُسے ، جسکے تم ہُوئے دوست
تھا درد کتنا میری حکایت میں ، تب کُھلا
دل خُون ، رنگ زرد تھا ، آشفتہ مُوئے دوست
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






