حسین ہیں تو غرور بھی ہو گا ُاس میں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaجاناں ! اتنا بھی تو
کسی کو ستایا نہیں کرتے
دوسروں کی باتوں میں آکر
اپنوں کا دکھایا نہیں کرتے
رکھ کر اپنے ہی ہاتھوں میں جام
پھر خود کو ترسایا نہیں کرتے
لکھ کر حال دل کاغذوں پے
پھر ُانہیں جلایا نہیں کرتے
کشتی میں بھٹنا ہیں تو پھر
ڈوبنے سے کبھی گھبرایا نہیں کرتے
چاند کر طرح چمکنا ہیں تو پھر
اندھروں سے دامن چھڑایا نہیں کرتے
شیشہ ہیں تو ٹوٹ جایئں گا تو پھر
کانچ ُاٹھاتے ہاتھوں پے زخم لگایا نہیں کرتے
دل کے رشتے تو کاچے دھاگیے کی مانند ہوتے ہیں
جاناں ! کاچے دھاگوں کو الجھایا نہیں کرتے
حسین ہیں تو غرور بھی ہو گا ُاس میں
اس لیے حسین لوگوں سے دوستی کیا نہیں کرتے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






